Saturday, 29 April 2023

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 10:38 am

Best Quran Recitation By Qari Hamza Arshad l Dil ko Sukoon dene Wali Tilawat



Voice By: Qari Hamza Arshad "Best Quran Recitation By Qari Hamza Arshad l Dil ko Sukoon dene Wali Tilawat" The video titled "Best Quran Recitation By Qari Hamza Arshad l Dil ko Sukoon dene Wali Tilawat" features the skilled recitation of the Holy Quran by the renowned Qari Hamza Arshad. The video promises to offer a peaceful and calming experience to its viewers through the soothing voice of Qari Hamza Arshad, who recites the verses of the Quran with immense devotion and passion. The video showcases the recitation of select verses from the Quran that are known for their ability to provide tranquility to the listener's heart and soul. Qari Hamza Arshad's immaculate voice and perfect pronunciation of the Arabic verses are sure to leave the viewers mesmerized. The title of the video, "Dil ko Sukoon dene Wali Tilawat," which translates to "Quran Recitation that brings peace to the heart," further emphasizes the aim of the video, which is to provide a calming and relaxing experience to its viewers. The video is perfect for those who seek to find solace in the recitation of the Quran or are simply looking for a way to unwind after a long day. Overall, the video is an excellent way to experience the beauty of the Quran and its recitation by a talented Qari, who has devoted his life to mastering the art of reciting the Holy book. #quranrecitation #quranrecitationreallybeautifulamazing #qurantilawat #quran #tilawat #tilawat_e_quran #tilawate #tilawatequran #tilawatquran Facebook: https://www.facebook.com/islamicguideoflife Instagram: https://www.instagram.com/adnanhanifmughal/ Twitter: https://twitter.com/Adnanhanifm If you have any questions or need guidance, comment below in the comment section. Love you all. Thanks for watching.

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps

 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 10:36 am

Best Quran Recitation in the World l Emotional Tilawat By Maulana Zillur Rahman Farooqi



Voice By: Qari Zillur Rahman Farooqi "Best Quran Recitation in the World l Emotional Tilawat By Maulana Zillur Rahman Farooqi" In this captivating YouTube video, viewers are treated to the mesmerizing recitation of the Holy Quran by Maulana Zillur Rahman Farooqi, widely considered to be one of the best Quran reciters in the world. The recitation is emotionally charged and deeply moving, as Maulana Farooqi's voice resonates with a powerful and heartfelt intensity that is sure to leave a lasting impression on anyone who watches. The video showcases Maulana Farooqi's incredible talent for reciting the Quran with remarkable precision, perfect enunciation, and an unwavering dedication to the meaning and beauty of the holy text. With every word he recites, Maulana Farooqi's passion for the Quran shines through, bringing to life the powerful messages and teachings of this sacred scripture in a way that is both uplifting and inspiring. Whether you are a devout Muslim or simply someone who appreciates the beauty and power of the Quran, this video is a must-see. So sit back, relax, and allow yourself to be transported to a world of spiritual enlightenment and emotional resonance as you experience one of the best Quran recitations in the world, brought to you by the gifted and talented Maulana Zillur Rahman Farooqi. #quranrecitation #tilawat #tilawat_e_quran #tilawate #tilawatequran #tilawatquran #qurantilawat #quranrecitationreallybeautifulamazing #quran #besttilawatquran #beautifultilawat Facebook: https://www.facebook.com/islamicguideoflife Instagram: https://www.instagram.com/adnanhanifmughal/ Twitter: https://twitter.com/Adnanhanifm If you have any questions or need guidance, comment below in the comment section. Love you all. Thanks for watching.

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps

 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 10:34 am

عورت پر غسل کن چیزوں سے واجب ہو تا ہے؟ 97فیصد لڑکیاں نہیں جانتیں - اسلامک گائیڈ آف لائف

ںکچھ باتیں اور سوال ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنےو الدین یا عزیز و اقارب سے پوچھنے میں انسان شرم محسوس کر تا ہے لیکن دین کی بات پوچھنے یا بتانے میں کوئی حیا ء نہیں مرد حضرات اپنے سوالوں کے جواب علمائے کرام سے پوچھ لیتے ہیں لیکن خواتین کو اپنے مسائل جاننے کے لیے کافی دشوار ی کا سا منا کر نا پڑتا ہے ہم اکثر ہی اس بات پر زور ڈالتے ہیں کہ کوئی بھی مسئلہ مسائل ہوں چاہے

وہ عورتوں سے متعلق ہوں بھلے وہ مردوں سے متعلق ہوں وہ اللہ کے واسطے ضرور جا نا کر یں۔ کیونکہ ان میں بہت سی باریکیاں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ایک سوال کافی دنوں سے با ر بار موصول ہو رہا تھا کہ عورتوں پر غسل کن صورتوں پر واجب ہوتا ہے وہ کون سی وجو ہات ہیں جن کی بنا ء پر عورت پر غسل واجب ہو جا تا ہے۔ اس سوال کا جواب ہم آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں سوال یہ ہے کہ عورت پر غسل کب واجب ہو تا ہے اس کا جواب ہم آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں اس کا ایک تو جواب یہ ہے کہ ا یک تو عورت کو جب حیض ہوں یا ایام آ جا ئیں تو اس پر غسل واجب ہو جا تا ہے۔ دوسرا جب وہ اپنے خاوند کے ساتھ قربت کر ے تو بھلے وہ فارغ ہو ں یا نہیں دخول کر تے ہی مرد اور عورت دونو ں پر ہی غسل واجب ہو جا تا ہے۔ فرض ہو جاتا ہے اکثر خواتین کو ایام آنا بند ہو جا تا ہے اور غسل کر کے پاک ہو جا ئیں تو اس کے بعد اگر شلوار پر خ و ن کے داغ لگتے ہوں

تو ایسی صورتحال میں بھی دوبارہ غسل کر نا واجب ہو جا تا ہے۔ اور اس کے علاوہ خاوند بیوی ساتھ سو رہے ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ جنسی لمس محسوس کر یں ایسی صو رت میں اگر کوئی رتوبت محسوس کر یں۔ تو غسل کرنا واجب ہو گا اس کے علاوہ اگر ر توبت کسی بیماری کی وجہ سے ہو تو اس پر غسل واجب نہیں ہے اگر خاوند بیوی چاہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ غسل کر سکتے ہیں لیکن دوران غسل ایک دوسرے سے جسمانی لذت لینا چائز نہیں ہوگا۔ ایسا کرنے سے دوبارہ رتوبت کا اخراج ہو گا اور غسل پورا نہیں ہوگا۔ تو ہم نے آج آپ کو تفصیل سے بتا دیا کہ کن کن صورتوں میں عورت پر غسل کر نا واجب ہو جاتا ہے ہمیں اسلام کو پڑھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم نے اسلام کو نہ ہی کبھی جا نا

اور نہ ہی کبھی سیکھنے کی کوشش کی کہ ہمارا پاک دین اسلام ہمیں کیا بتا تا ہے کیا سیکھا تا ہے کیا سمجھا تا ہے تبھی ہم طرح طرح کی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اسلام کی طرف توجہ دیں۔

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 10:33 am

تین انسان ایسے ہیں چائیے جتنی لمبی نماز پڑھیں لیکن اللہ ان کی نماز قبول نہیں کرتا - اسلامک گائیڈ آف لائف

تین ایسے بدبخت ہیں اللہ ان کے فرائض اور نوافل دونوں میں سے کوئی بھی قبول نہیں کریں گے اللہ کے رسول کونسے لوگ ہیں فرائض بھی قبول نہیں نوافل بھی قبول نہیں تو بچا کیا فرمایا ایک وہ ہے جو والدین کا نافرمان ہے جو نیکی کر کے جتلانے والے ہے احسان ، اور تقدیر کو جھٹلانے والا ہے یہ انسان اس کے فرائض بھی اور نوافل بھی قبول نہیں ہیں۔

تیسرا بدبخت وہ ہے جس کو آج لوگ بڑا خوش نصیب کہتے ہیں پریشانی کیا ہے آؤ پالمسٹ کے پاس لے جاؤں وہ بڑی پہنچی ہوئی سرکار ہیں آپ کا ہاتھ دیکھیں گے صرف انہوں نے زائچہ بنانا ہے لائنیں دیکھیں گے آپ کو سب کچھ کھول کر بتا دیں گے رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں صحیح الجامع کی روایت ہے 4059 جو شخص کسی بھی کاہن نجومی اور قیافہ شناس کے پاس آکر ہتھیلی کیا کرتا ہے صرف پوچھ لیتا ہے کہ میری قسمت کیسی ہے چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی اور دوسری روایت کے الفاظ ہیں صحیح الجامع کی روایت ہے 5939 جس نے اس سے پوچھا پھر اس کی بات کو سچا سمجھا ادھر اس کی بات کی تصدیق ہوگا اور ادھر قرآن کا منکر اور کافر ہوجائے گا عقائد بچاؤ !اعمال بچاؤ! ویسے ایک چھوٹی سی گزارش ہے ماشاء اللہ پڑھے لکھے ہیں اگر یہ اتنا ہی پہنچا ہوا ہو تو یہ خود فٹ پاتھ پر بیٹھا ہو اگر کوئی اتنا پہنچا ہو تو یہ فٹ پاتھ پر دکھے کھاتا پھرتا ہو طوطا لے کر بیٹھا ہو بعض لوگوں کو اللہ نے بڑی

جرات اور ہمت دی ہوتی ہے ہمارے ایک ساتھی تھے لاہور وہ کہتے ہیں آج میں نے یہ کام کرنا ہی کرنا ہے وہ خیر گئے ان کی دوشادیاں تھیں کہتے ہیں بہت پریشان ہوں شادی نہیں ہورہی اس نے دیکھاکہتا ہے جی ابھی چھ مہینے نہیں ہونے اس نے ایک لگائی اس نے کہا پہلے مجھ سے سنبھالی نہیں جارہی اس قدر انسان گرجاتا ہے اس قدر گر جاتا ہے شیطان نے بھی کہا تھا لم اکن لاسجد لبشر میں بشر کو سجدہ نہیں کرسکتا حالانکہ اللہ کا حکم تھا لیکن اس نے کس قدر اپنے آپ کو تکبر کیا کیا انسان۔واضح رہے کہ اپنی آئندہ اچھی یا بری قسمت کے بارے معلوم کرنے کے لیے کسی نجومی اور کاہن کے پاس جاکر اس کو ہاتھ دکھانا اور آئندہ کی باتیں پوچھنا شرعا حرام اور ناجائز ہے۔ اور اس کی بتائی ہوئی بات کے درست ہونے کا عقیدہ رکھنا، آدمی کو کفر کے قریب کر دیتا ہے۔نیز نجومی اور کاہن کے پاس جانے والوں پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے چنانچہ ” جامع الترمذی ” میں ہے: جو آدمی کسی کاہن (نجومی) کے پاس آیا

( اور اس نے اس کی بتائی ہوئی بات کے صحیح ہونے کا عقیدہ رکھا) تو اس نے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت کا انکار ( کفر ) کیا۔اسی طرح صحیح روایت میں ہے : جو شخص کسی کاہن( نجومی) کے پاس جا کر کسی چیز کے متعلق دریافت کرے تو اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 10:32 am

کیا عورت بغیر نکاح کےکسی مرد کے ساتھ رہ سکتی ہے - اسلامک گائیڈ آف لائف

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : میری امت میں دو فتنے ایک عور ت اور ایک دولت ۔ دولت کو کیوں فتنہ کہا اور عورت کو کیوں فتنہ کہا؟ دولت کو فتنہ اس لیے کہا کہ جیسے کوئی باپ اپنی جائیداد چھوڑ کر دنیا سے چلا جاتا ہے۔ تو بعد میں وہی اولاد اس کی جائیداد کو حصے بانٹنے کے چکر میں ایک دوسرے کو ق تل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

اور یہ فتنہ اتنا پھیل گیا ہے۔ کہ گھر کے گھر تباہ ہوگئے ہیں۔ نہ وہ گھررہا۔ اور نہ گھر والے رہے۔ وہی بچے جو ایک پلیٹ میں کھانا کھاتے تھے باپ کے مرتے ہی آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ۔ یہ صر ف کہانی یا ڈرامے میں نہیں ہوتے۔ یہ اپنی زندگی میں کئی ایسے حادثات دیکھے۔ عورت کو کیوں فتنہ کہا؟ کئی عورتیں ایسی ہیں۔ کہ جو اپنے پانچ چھ بچوں کو چھوڑ کر گھر سے چلی جاتی ہے۔اور بعد میں بچے رلتے رہتے ہیں۔ لیکن اس عورت کو کوئی حیاء نہیں آتی۔ بے لگام ہوجاتی ہے۔ تو اس کو لگام ڈالنا ناممکن ہے۔ بہت سے ایسے کیس آئے ہیں۔ صدیوں سے عورتوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں۔ کئی کئی حکومتیں تباہ کردیں۔ عورت بادشاہوں کی بادشاہی لوٹ لی۔ عورت کے پیچھے کئی کئی ق تل ہوئے۔ عورت کے پیچھے ناجانے کتنے گھر برباد ہو ئے ؟خیر یہ سب کچھ تو دنیا میں چلتارہتا ہے۔ ایک فتنہ کچھ عرصہ پہلےچلا۔ جس نے نعرہ لگایا “میرا جسم میرا مرضی “۔ تو اللہ تعالیٰ کہا میری دنیا میری مرضی۔

اللہ تعالیٰ نے سب کو نکاح پہنا دیا۔ وہ جنہوں نے کبھی نقاب نہیں پہنے انہوں نے بھی نقاب پہنے۔ اور اللہ نے کہا پھرو اب۔ سب نے نقاب ڈال دیا۔ لیکن اس کے باوجود کہ لاکھوں انسان مر گئے پھر بھی یہ دنیا نہیں سدھری۔ یہ لو گ نہیں سدھرے۔ ایک نیا فتنہ جنم لیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں نکاح کو حلا ل کہا۔ کہ نکاح کرو۔ آپ حضوراکرم ﷺنے بھی نکاح کیا۔ کہ نکاح کرو۔ آپ نے فرمایا: جب لڑکی جوان ہوجائےتو اس کو نکاح کردو۔ اس کی شادی کردو۔ لیکن اس وقت جو ایسی عورتیں جس نے ایسا نعرہ لگایا کہ شاید میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سنا۔ پتہ نہیں ش یطان نے اعلان کیا اس کو۔ کہ بغیر نکاح کے رہو۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کو بدلا۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کے قانون کو بدلا۔ شریعت کو بدل دیا۔ ایسی عورت کی کیاسزاہونی چاہیے ؟ ایسی عورت کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ اگرآپ مسلمان ہیں۔ آپ کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔ اللہ کی عبادت کرتے ہو۔ آخرت پریقین رکھتے ہو۔ یہ بھی یقین رکھتے ہو

کہ قیامت کو حساب کتاب دینا ہے۔ پھر ایسی عورت کے بارے میں آپ کی کیارائے ہے؟ یہ اتنا بڑا فتنہ ہے۔ یہ دجالی فتنہ ہے۔ یہ اعلان جنگ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اور آپ سب کی بیٹیوں کی حفاظت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پا ک ہمیں اپنی حفظ وایمان میں رکھے۔ اور ایسی شیاطین عورتوں سے اللہ تعالیٰ سب کو محفوظ رکھے۔ آمین

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 10:30 am

خانہ کعبہ کے بالکل سامنے مکہ ٹاور کا سب سے اوپر والا کمرہ کس کیلئے مخصوص ہے جان کر ہر زبان سبحان اللہ کہہ اٹھے گی - اسلامک گائیڈ آف لائف

 اس وقت پوری دنیا میں ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں مساجد ہونگی جن میں فرزندان اسلام روزانہ خالق کائنات کی عبادت کرتے ہیں ۔ ایک سے ایک خوبصورت اور حسین ترین مساجد جنہیں دیکھ کر دل خود بخوود سبحان اللہ کہہ اٹھتا ہے اور رب ذوا لجلال کی مدح سرائی کرنے کو دل چاہتا ہے جس نے انسان کو اس قدر اعلی صناعی اور صلاحیتیوں سے نوازا کہ خود انسان بھی حیرت زدہ رہ گیا۔ قارئین کی دلچسپی کی ایک نذر ایک خبر کہ فرزندان اسلام کے مقدس ترین مقام بیت ا للہ کے

عین سامنے مکہ کلاک ٹاور کیعظیم الشان عمارت واقع ہے جو 2013 میں اپنے افتتاح کے موقع پر دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت تھی۔اس عمارت کی چوٹی زمین سے 607 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور بلند ترین مقام پر ایک خوبصورت سنہرا ہلال بنایا گیا ہے جس کی چمک میلوں دور سے آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔ چوٹی کے عین نیچے، سنہری ہلال کی بنیاد میں ایک خاص کمرہ بنایا گیا ہے جسے کائنات کے خالق کی عبادت کے لئے وقف کیا گیا ہے۔رپوٹس بتاتی ہیں کہ یہ دنیا کا بلند ترین عبادت خانہ ہے ۔ نماز کے لئے بنائے گئے اس کمرے تک پہنچنے کے لئے ہائی سپیڈ لفٹ استعمال کرنا پڑتی ہے جو عمارت کے ٹاپ فلور تک جاتی ہے۔ اس کے بعد 18 میٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا جا سکتا ہے یا اس کے لئے دنیا کی بلند ترین چئیر لفٹ استعمال کی جا سکتی ہے۔

عمارت کی تعمیر کے لئے کام کرنے والے انجینئروں کا کہنا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی کرنے والے چاہتے تھے کہ کعبتہ اللہ کے پاکیزہ اور روح پرور نظارے کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لئے جگہ تعمیر کی جائے جس کی تکمیل کے لئے بلند ترین مقام پر واقع ہلال کے اندر یہ خاص کمرہ تعمیر کیا گیا جہاں مسلمان باری تعالی کی عظمتوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے سامنے سر بسجود ہوتے ہیں ۔

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 10:29 am

آج کل 95فیصد میاں بیوی یہ مکرو کام کرتے ہیں جانیں مزید کن الفاظ سے بیوی شوہرپر حرام ہوجاتی ہے - اسلامک گائیڈ آف لائف

 آپﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ قرب قیامت ایسا زمانہ آئیگا کہ لوگ اپنی بیویوں کیساتھ زنا کریں گے آپﷺ نے چودہ سوسال پہلے بتادیا لوگ بیویوں سے زنا کریں گے ۔بیوی تو وہ ہوتی ہے جسے قبول کرکے گھر میں لے کر آتا ہے لاتا اسی لیے ہے کہ اس کیساتھ ازدواجی زندگی قائم ہوجائے ۔

لیکن اپنی بیوی کیساتھ زنا کریں گے سمجھ نہیں آرہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بلکل سچ فرمایا ہے آج کے دور کے میں یہ باتیں سچی ہورہی ہیں بعض دفعہ انسان ایسے کفریہ کلمات کہہ دیتا ہے جن کلمات کی بناء پر انسان دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے جب انسان دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے وہ کافر ہوجاتا ہے تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔ کافر اور مسلمان کا نکاح نہیں ہوسکتا جب نکاح ٹوٹ جاتا ہے تووہ آپس میں قربت کررہے ہوتے تو وہ زنا کررہے ہوتے ہیں۔ کفریہ الفاظ کیا ہیں وہ جن الفاظ میں ضروریات دین میں سے کسی بات کا انکار یا اعتراض ہو یا صریح حکم الٰہی کو تبدیل کرکے بیان کیا جائے ۔یا دین کی کسی بھی بات یا حکم کا مذاق اُڑایا جارہا ہے ۔کسی نبی کی توہین کررہا ہے گستاخی کررہا ہے جن کے کہنے سے انسان دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے

اور بیوی سے زنا کررہا ہوتا ہے ۔ کسی عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ نما ز پڑھ لیں میں نے نماز نہیں پڑھنی نماز ہے نہیں دین کے اندر جس نے یہ کہہ دیا کیونکہ یہ دین کی ضروریات میں ہے تو اس صورت میں اس کا نکاح ٹوٹ جائیگا ۔ یا وہ یہ کہہ دے کہ میں نماز پڑھوں کافر ہوجاؤں ہندو ہوجاؤں یہ کفریہ الفاظ ان سے بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے ایک وہ جملہ جو اکثر عورتیں اپنے الفاظ میں بولتی ہیں اگر کسی پر کوئی مشکل وقت پیش آیا ہے نہ تو وہ آگے سے کہتا ہے کہ اللہ نے میرے ساتھ کونسا اچھا کیا ہے یہ وہ الفاظ ہیں آپ نے کئی دفعہ کئی عورتوں سے سنا ہوگا ۔ لوگ اکثر پریشانی کے حالت یہ الفاظ بول دیتے ہیں اگر یہ الفاظ بولیں تو حالت کفر میں چلے جائیں گے ۔کتنے لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ دائرہ اسلام سے نکل جاتے ہیں۔

بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے میاں بیوی میں جھگڑا ہورہا ہوتا ہے تو بیوی کہہ رہی ہوتی ہے کہ مجھے فارغ کردو میرا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے شوہر کہہ دیتا ہے کہ میں نے تمہیں فارغ کیا یہاں پر تین چیزوں کو دیکھیں گے کہ طلاق کا مذاکراہ تھا بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا یا خاوند کیلئے طلاق کا مذاکرہ بھی نہیں تھا بیوی نے طلاق کا مطالبہ نہیں کی اور نیت بھی نہیں تو طلاق نہیں ہوگی ۔بہت سارے لوگ طلاق کی نیت سے کہہ دیتے ہیں کہ میں نے تمہارے فارغ کیا یہ وہ الفاظ ہیں جس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے ۔اس کیلئے آپ کو نکاح دوبارہ کرنا پڑے گا۔بولتے وقت پہلے سوچا کریں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں پھر بولا کریں تاکہ کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 10:28 am

بابا بلھے شاہ کی نماز جنازہ کوئی کیوں پڑھنے کوتیارنہیں تھا، - اسلامک گائیڈ آف لائف

 پنجابی زبان کے مشہور عوامی شاعر بابا بُلھے شاہ کی پیدائش 1680ء میں ریاست بہاولپور (پاکستان) کے ایک گاؤں “اُچ گیلانیاں” میں ہوئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آپ کا خاندان قصور منتقل ہو گیا آپ کے والد کا نام شاہ محمد درویش تھا۔ وہ مسجد کی امامت کرتے تھے اور بچوں کو تعلیم دیتے تھے۔ انھیں عربی، فارسی اور مذہبی علوم پر دسترس حاصل تھی۔ بابا بُلّھے شاہ کا اصل نام عبداللہ شاہ تھا ۔۔

جو بگڑ کر بُلھا شاہ اور بُلّھے شاہ ہو گیا ۔۔ اور وہ اسی نام سے مشہور ہوئے ۔۔اور یہی نام خاص و عام کی زبان پر گونجنے لگا ۔۔۔ بُلّھے شاہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ۔۔ چند دوسرے اساتذہ سے علم حاصل کرنے کے بعد علم و عرفان کی جستجو اور تڑپ آپ کو حضرت شاہ عنایت قادری کے دروازے پر لے آئی ۔۔ شاہ عنایت تصوف کے قادری سلسلے سے تعلق رکھتے تھے ۔۔ ذات کے لحاظ سے آرائیں تھے ۔۔ اور بہت سی فارسی کتابوں کے مصنف تھے ۔۔۔ وہ دوسرے صوفیاء کی طرح تارک الدُنیا نہیں تھے ۔۔ بلکہ کھیتی باڑی اور باغبانی کرتے تھے ۔۔۔قصور میں مقیم تھے لیکن حاکم سے مخالفت کی وجہ سے لاہور منتقل ہونا پڑا اور پھر لاہور کے ہی ہو کر رہ گئے ۔۔ بُلّھے شاہ کا بچپن گاؤں میں مویشی چراتے گذرا ۔۔ والد امام مسجد تھے اور امام مسجد کی حیثیت اُس عہد میں گاؤں کے دوسرے ہنرمندوں موچی ، نائی اور جولاہوں کے برابر ہی تھی ۔۔

یہی وجہ ہے بُلّھے شاہ کامعاشرے کے پِسے ہوئے طبقات کے حوالے سے نہ صرف گہرا مشاہدہ تھا ۔۔ بلکہ آپ خود ان حالات سے گزرے تھے۔ اسی مشاہدے اور تجربے نے آگے چل کر بے باک شاعرانہ اسلوب کی بنیاد رکھی۔ اگر اُس عہد کا جائزہ لیا جائے تو سترہویں اور اٹھارویں صدی برصغیر کا پرآشوب عہد تھا۔ اس عہد نے نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالیکی تباہ کاریاں دیکھیں۔ دلّی کو اجڑتے ہوئے دیکھا، لاکھوں انسان اس قتل و غارت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دوسری جانب یہ اورنگ زیب عالمگیر کی ” مذہبی جنونیت ” کا عہد تھا ۔۔ جس میں بادشاہت کے جبر کو ملائیت میں ڈبو کر لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔۔۔ عالمگیر کے بارے میں ابنِ انشاء کا مشہور جملہ ہے کہ ” دین و دنیا دونوں پر نظر رکھتا تھا نہ اس نے کوئی نماز چھوڑی اور نہ کسی بھائی کو چھوڑا ” عوام کے ساتھ سلوک میں مذہب کو اہمیت دی جانے لگی ۔۔

اور مذہبی تعصبات کو اُبھارنے کی کوشش کی گئی ۔۔۔ جبر و استبداد اور ظلم و ناانصافی کو نماز روزے اور ٹوپیاں سینے جیسے علامتی کاموں میں لپیٹ پر روا رکھا جانے لگا ۔۔جس پر اُسے اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کہا جانے لگا ۔۔ یوں سمجھئیے کہ وہ اُس دور کی ضیاء الحقی تھی ۔۔۔ جس میں مذہبی پیشواؤں کو بھی جبر کا موقع میسر آیا ۔ ۔ دوسری طرف اس انتشار اور مذہبی جنونیت کے خلاف ہمیں ادبی اور فکری سطح پر ایک بے مثال ردِ عمل بھی ملتا ہے۔ اسی عہد میں پنجاب نے بُلّھے شاہ (1757-1680) اور وارث شاہ (1798-1722) کو جنم دیا ۔۔۔ سندھ کی دھرتی پر شاہ لطیف بھٹائی (1752-1689) اور سچل سرمست (1826-1739) نے انمٹ نقوش چھوڑے۔ پشتو زبان میں رحمان بابا(1711-1653) عوام کی آواز بن کر اُبھرے اردو میں خواجہ میر درد (1785-1721) اور میر تقی میر (1810-1723) نے عظیم شعریروایت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں ۔۔۔

لیکن اس عہد کے بے مثال شعراء میں یہ اعزاز صرف بُلّھے شاہ کے حصے میں آیا کہ ان کے اشعار ، کافیاں اور دوہڑے صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ سندھ ، راجستھان اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں لوگوں کے دل کی آواز بن گئے ۔۔۔ اور اس عظیم شاعر کی آواز ہندوستان کے ہر کونے اور ہر لہجے میں گونجی۔ بُلّھے شاہ کی شاعری اور زندگی مذہبی ملاؤں اور پنڈتوں سے نبرد آزما رہی ۔۔ فرسودہ ذات پات کا نظام اور طبقاتی تفریق کو آپ نے خاص طور پر ہدفِ تنقید بنیایا ۔۔ گھسے پٹے کتابی علم سے نکل کر سماج کی زندہ حقیقتوں کو موضوع بحث بنایا ۔ مذہبی بنیادوں پر نفرت اور جھگڑے پیدا کرنےوالے متعصب اور جنونی مذہبیوں کے خلاف آواز بلند کی ۔۔ اور تمام انسانوں کو ایک انسانی برادری قرار دیا ۔ آپ جب شاہ عنایت کے مرید ہوئے تو اس پر بھی اُن کی برادری اور ملّاؤں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ۔۔ کیونکہ آپ سیّد تھے آلِ نبی اولادِ علی سے تعلق رکھتے تھے ۔۔

لیکن شاہ عنایت ذات کے آرائیں تھے جو کمتر اور گھٹیا سمجھی جاتی تھی ۔۔۔ یہ بات اُن کی برادری اور مذہبی ٹھیکیداروں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی کہ ایک اعلٰی خاندان اور قابلِ فخر نسبت کا حامل شخص نچلی ذات کے کسی فرد کے سامنے زانوئے تلمّذ تہہ کرے ۔ لیکن آپ نے اپنے سیّد ہونے کو ٹھکرا دیا اور سب کی مخالفت مول لے کر شاہ عنایت کو مرشد مان لیا اور اُس نسلی تفاخرسے نکل کر اپنی تشکیلِ نو کی اور ایک نئے انسان کے روپ میں سامنے آئے جو ماضی کے تمام تعصبات سے پاک ہو چکا تھا۔ اس حوالے سے اُن کے اشعار دیکھئیے : بُلھے نوں سمجھاؤن آیاں بہناں تے بھرجائیاں آلِ نبی اولاد علی دی توں کیوں لیکاں لائیاں من لے بُلھیا ساڈا کہنا ، چھڈ دے پلّہ رائیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیہڑا سانوں سیّد آکھے ، دوزخ ملن سزائیاں جہیڑا سانوں رائیں آکھے ، بہشتیں پینگاں پائیاں جے توں لوڑیں باغ بہاراں ، طالب ہو جا رائیاں اس بغاوت پر آپ کو خاندان ،

ذات اور اپنے ہم مذہبوں کی شدید مخالفت مول لینا پڑی ۔۔ لیکن آپ ڈٹے رہے ۔۔ نہ صرف یہ کہ ہر قسم کا لعن طعن برداشت کیا بلکہ اپنی شاعری اور عمل سے اُس کا جواب بھی دیااسی دور میں جب آپ نسلی تفاخر کو خاک میں ملانے کی پاداش میں زیر عتاب تھے ۔۔ آپ نے گدھے پال لیے جو اُس عہد میں سب سے نچلے طبقے کا کام تھا ۔۔ اور کوئی باعزت شخص یہ کام نہیں کر سکتا تھا ۔۔ لیکن بُلھے شاہ اپنے آپ کو اُس سماج کے نچلے ترین طبقے میں لے آئے اور اُس کا عملی حصّہ بن گئے ۔۔ یہاں تک کہ لوگ آپ کو “کھوتیاں والا” کہہ کر پکارنے لگے۔ دقیانوسی رسوم و رواج اور روایتی بندھن آپ کو کبھی بھی پسند نہ تھے ۔۔ زندگی کے ہر موڑ پر اُن کو توڑ کر آپ کو خوشی ملتی تھی ۔۔ مذہب ، رنگ ، نسل اور جنس کی تفریق آپ کے نزدیک ایک بے معنی چیز تھی ۔۔۔ اور انسانی وحدت اور انسانی برادری کی ہم آہنگی کے لیےزہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی تھی ۔۔۔

آپ کے حوالے سے مشہور ہے کہ ہیجڑوں کے ساتھ گھل مل جاتے ۔۔ اُن کے ساتھ ناچنا شروع کر دیتے ۔۔ یہاں تک کہ چوکوں اور چوراہوں میں مجمع کے سامنے بھی ہیجڑوں کے ساتھ ناچتے ۔ اُن کا خاندان اور برادری اس بات سے نالاں رہتے کہ بُلھا ہر قدم پر اُن کی بے عزتی کا باعث بن رہا ہے ۔۔ شاہ عنایت کا مرید ہونے کے بعد ، گدھے پالنا اور اب ہیجڑوں کے ساتھ ناچ گانا ۔۔ لیکن آپ اپنی سرمستی اور دھن میں چلتے چلے جا رہے تھے ۔ بُلھے شاہ سے قبل بھی شعراء نے مذہبی پیشواؤں کی چیرہ دستیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے ۔۔ لیکن جس بہادری ، جرات اور دلیری سے بُلھے شاہ نے ان مذہبی ٹھیکیداروں کو رد کیا ہےاس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔۔ کہتے ہیں : ملّا تے مشالچی دوہاں اکو چت ، لوکاں کردے چاننا تے آپ ہنیرے وچ اسی طرح اُن مُلّاؤں کی عالمانہ اصطلاحات اور فرسودہ کتابوں کی بے معنی تکرار سے تنگ آ کر یوں اُن کا پردہ فاش کرتے ہیں :

عِلموں پئے قضیے ہور اکھیں والے انھی کور پھڑ لئے ساہ تے چھڈے چور دوہیں جہانیں ہویا خوار عِلموں بس کریں او یار پڑھ پڑھ مسئلے روز سناویں کھانا شک شبہے دا کھاویں دسّیں ہور تے ہور کماویں اندر کھوٹ باہر سچیار علموں بس کریں او یار پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں اُچیاں بانگاں چانگھاں ماریں منبر چڑھ کے واعظ پکاریں تینوں کیتا حرص خوار علموں بس کریں او یار یہ بُلھے شاہ ہی تھاجس نے رام رحیم کے قدیمی جھگڑے کو رد کر کے اصل مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروائی اور اس نتازعے کو بے معنی قرار دیا ۔۔ جو ملّاؤں کا گھڑا ہوا ہے ۔۔۔ اور جس کا جدید عہد کے تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔ کتے رام داس کتے فتح محمد ایہو قدیمی شور نپٹ گیا دوہاں دا جھگڑا ، نکل پیا کوئی ہور اپنے عہد کی افراتفری ، سماجی گراوٹ اور لوٹ مار کو بُلھے شاہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھید سجن دے پائے کاں لگڑنوں مارن لگے،

چڑیاں جرے ڈھائے پیوپتراں اتفاق نہ کائی، دھیاں نال نہ مائے آپنیاں وچ اُلفت ناہیں ، کیا چاچے کیا تائے سچیاں نوں پئے ملدے دھکّے ، جھوٹے کول بہائے کہتے ہیںایک مرتبہ آپ حجرے میں بیٹھے تھے۔ رمضان کا مہینہ تھ، آپ کے کچھ مرید حجرے کے باہر بیٹھے گاجریں کھا رہے تھے ۔۔ قریب سے چند روزہ دار مسلمان گذرے تو اُنھیں رمضان میں اس طرح روزہ خوری پر شدید غصّہ آیا ۔۔۔بولے ” شرم نہیں آتی رمضان کے مہینے میں چر رہے ہو ” ؟ مریدوں نے کہا ” جاؤ بھائی مومنو! بھوک لگی ہے اسی لیے کھا رہے ہیں ۔۔۔” مومنوں کو شک ہوا کہ شاید یہ مسلمان نہیں ہیں ۔۔ اُنھوں نے پوچھا کہ تم ہو کون ؟ مُریدین بولے مسلمان ہیں کیوں مسلمانوں کو بھوک نہیں لگتی ؟؟ یہ سننا تھا کہ مومنین جو گھوڑوں پر سوار تھے نیچے اُتر آئے اور مریدوں کی خوب پٹائی کی ۔۔ اور حجرے میں جا کر آپ سے پوچھا ” ارے تو کون ہے ”؟؟ آپ نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں جانے کا کہا ۔۔

انھوں نے دوبارہ پوچھا ” تو کون ہے بولتا کیوں نہیں” ؟؟ آپ نے پھر جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔ وہ آپ کو دیوانہ سمجھ کر چلے گئے ۔۔ تھوڑی دیر کے بعد مرید حجرے میں داخل ہوئے اور شکایت کی کہ اُنھوں نے ہمیں مارا ہے ۔۔آپ نے کہا ” تم لوگوں نے ضرور کوئی قصور کیا ہو گا ۔۔۔ ” مرید بولے نہیں حضور ہم نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔انھوں نے تم سے کیا پوچھا تھا ؟ مریدین نے بتایا کہ اُنھوں نے پوچھا تھا کہ تم کون ہو تو ہم نے کہا مسلمان ہیں ۔بُلھے شاہ نے کہا کچھ بنے ہو تو مار کھائی ہے ناں ہم کچھ نہیں بنے ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا ۔۔” • بُلّھے شاہ کون ہے ؟ اس بارے میں آپ نے خود شعری پیرائےمیں یوں اظہارِخیال کیا ہے ۔۔ بلھیا کی جاناں میں کون ؟ نہ میں مومن وچ مسیتاں نہ میں وچ کفر دیاں ریتاں نہ میں پاکاں وچ پلیتاں نہ میں موسی نہ فرعون بلھیا کی جاناں میں کون ؟ نہ میں وچ پلیتی پاکی نہ میں وچ شادی غمناکی نہ میں آبی نہ میں خاکی نہ میں آتش نہ میں پون بلھیا کی جاناں میں کون ؟

نہ میں بھیت مذہب دا پایا نہ میں آدم ہوا جایا نہ کجھ اپنا نام دھرایا نہ وچ بیٹھن نہ وچ بھون بلھیا کی جاناں میں کون ؟ اوّل آخر آپ نوں جاناں نہ کوئی دوجا ہور پچھانا میتھوں ودھ نہ کوئی سیانا بلھیا او کھڑا ہے کون بلھیا کی جاناں میں کون ؟ بُلھے شاہ نے شاعری کے ضمن میں ایک ضخیم ورثہ چھوڑا ہے ۔۔ پنجابی کی تمام اہم اصناف کافی ِ سی حرفیگنڈھاں ، اٹھوارے ، دوہڑے اور بارہ ماہے اُن کے کلام میں شامل ہیں ۔۔۔ ایک مختصر پوسٹ میں اُن کے کلام ، فکر، زندگی اور اُس عہد کے حالات کی جانب محض اشارہ کرنا ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔۔ اور اس میں بہت سے پہلوؤں کا رہ جانا بھی یقینی ہے۔ بُلھے شاہ اپنے عہد کے سماجی اور مذہبی جبر کے خلاف ایک انتہائی توانا آواز تھے جو اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر جدوجہد کرتے رہے ۔۔۔ آپ کی اعلی انسانی اقدار اور فکر و عمل کے باعث ہندو، مسلمان، سکھ اور مختلف عقیدوں سے تعلق رکھتے والے لوگ اُن سے یکساں محبت رکھتے ہیں۔

بُلّھے شاہ کی موت کے وقت (1757) اُن کے انقلابی فکر و عمل کے باعث ملّاؤں نے انھیں برادریکے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اُن پر کفر کا فتویٰ لگا کر اُن کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ ویسے بھی بُلھے شاہ کو ان مداریوں کی ان بیہودہ رسومات کی ضرورت بھی کہاں تھی۔ وہ تو آج بھی اپنے کروڑوں عقیدت مندوں اور مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ تو خود کہتا ہے۔ ” بّلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور “

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 10:26 am

اگر عورت میں اس طرح کی نشانیاں ہوتوایسی عورت کوکبھی ساتھ نہ رکھو اسے فوری چھوڑ دو،جانیں ایسی کونسی نشانیاں ہیں - اسلامک گائیڈ آف لائف

عرب معاشرے کی لوک دانش اور نظریات دیگر دنیا سے خاصے مختلف ہیں اور یہ فرق زندگی کے ہر پہلو میں نظر آتا ہے۔ ”سعودی گزٹ“ میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں مشال السدیری بھی ایک ایسے ہی پہلو سے پردہ اٹھاتے ہیں جو شاید دنیا کے لئے قدرے حیران کن اور دلچسپ بھی ہوسکتا ہے۔ سدیری لکھتے ہیں

کہ ان کے ایک دوست نے انہیں ایک کہانی سنائی۔ دوست نے بتایا کہ ان کے ایک دوست کا کزن عدالت میں پیش ہوا اور جج سے درخواست کی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے اور استدعا کرتا ہے کہ اسے اس کی اجازت دی جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی میں جسمانی یا اخلاقی لحاظ سے کوئی خامی نہیں ہے بلکہ وہ اس وجہ سے طلاق دینا چاہتا ہے کہ اس کی بیوی پہلے دن سے ہی نحوست کا باعث ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اس نے بتایا، ”میں نے جب اسے پہلی دفعہ دیکھا تو وہ میرے ہمسایوں کے ہاں ایک مہمان کے طور پر آئی ہوئی تھی۔ میں نے گاڑی پچھلے دروازے کے قریب کھڑی کی اور اس کے حسن سے لطف اندوز ہونے لگا کہ اسی دوران مجھے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی۔ کوڑے والا ٹرک میری گاڑی کے ساتھ ٹکرا چکا تھا

اور میری گاڑی کا ستیاناس ہوچکا تھا۔ جس دن میری فیملی رشتہ لے کر میری ہونے والی بیوی کے گھر جارہی تھی تو راستے میں ایک حادثے میں میری ماں چل بسیں اور ہمیں راستہ تبدیل کرکے قبرستان جانا پڑا۔ جب افسوس کے دن ختم ہوئے تو میں نے شادی کرلی لیکن پتہ چلا کہ میں نے صرف مزید غموں کی راہموار کی تھی۔ میں جب بھی اسے شاپنگ کے لئے لے کر جاتا تو جگہ جگہ میرا چالان کیا جاتا۔ میری شادی کے دن ہمسایوں کے گھر میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جو ہمارے گھر تک بھی آگئی اور باورچی خانہ اس کی لپیٹ میں آگیا۔ اگلے دن میرے والد ہم سے ملنے آئے لیکن بیچارے سیڑھیوں سے گرے اور ٹانگ تڑوا بیٹھے۔ میرابھائی اور بھابھی جب بھی ہم سے ملنے آتے تو ہمارے گھر آنے کے بعد آپس میں لڑ پڑتے اور خوش ہونے کی بجائے

ایک دوسرے کو کوستے ہوئے رخصت ہوتے۔ میرے رشتہ دار مجھے اکثر کہتے تھے کہ میری بیوی منحوس ہے لیکن میں نے کبھی ان کی بات پر کان نہ دھرا۔ گزشتہ ہفتے میری آمدنی کا واحد زریعہ میری ملازمت بھی ختم ہوگئی۔ بالآخر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میری المناک زندگی کا سبب میری بیوی ہے اور میں اسے طلاق دینا چاہتا ہوں، براہ کرم مجھے اس کی اجازت دی جائے۔“ دانا جج نے شفقت بھری نظروں سے سائل کی طرف دیکھا اور یوں گویا ہوا، ”ہمارے ساتھ پیش آنے والا ہر واقعہ، بظاہر برا یا بھلا، قدرت کا فیصلہ ہے۔ ہمارے ساتھ پیش آنے والے المیے کسی انسان کی نحوست کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ تمہاری بیوی معصوم اور بے قصور ہے اور تمہارے ساتھ پیش آنے والے حادثات میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ یہ محض اتفاقات تھے۔

اپنی بیوی کا ہاتھ تھامو اور واپس چلے جا? اور آئندہ کسی بھی بدقسمتی کے لئے اسے ذمہ دار مت ٹھہرانا۔“ جب دل شکستہ شخص بیوی کا ہاتھ تھام کر عدالت سے رخصت ہورہا تھا تو ایک ہرکارہ دوڑتا ہوا آیا اور جج کی خدمت میں ایک سرکاری خط پیش کیا۔ خط میں ایک مختصر نوٹ لکھا تھا، ”آپ کو جج کے عہدے سے فوری برطرف کیا جاتا ہے۔“ جج نے عدالت سے رخصت ہوتے ہوئے شخص کو پکار کر واپس بلایا، چند لمحے اس کا چہرہ تکتا رہا، اور پھر بولا، ”اس عورت کو اسی وقت طلاق دے دو۔“

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps