Saturday, 28 January 2023

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:35 pm

حضوراکرمؐ نے اپنے صحابہؓ حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر ؓ، حضرت عثمانؓ - اسلامک گائیڈ آف لائف

ایک رو زآپﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان تشریف آوری کے دوران حضرت ابو بکر سے پوچھا :ابو بکر آپ دنیا میں کیا چیز پسند کرتے ہیں انہوں نے جواب میں کہا حضور تین چیزیں پسند کرتا ہوں او ل : آپ کے درمیان بیٹھا رہوں دوسرا آپ کو دیکھتا رہوں تیسرا اپنے مال کو آپ پر خرچ کروں پھر حضورﷺ نے حضرت عمر ؓ سے دریافت کیا کہ عمر ؓ آپ کیا پسند کرتے ہیں

حضرت عمر ؓ نے جواب میں کہا حضور تین چیزیں پسند کرتا ہوں اول نیکی کا حکم دوں ، دوسرا برائی سے روکتا رہوں اگرچہسرعام ہو اور تیسرا حق بات کہوں اگرچہ سننے والوں کڑوی لگے ۔ او ر پھر حضور نے حضرت عثمان سے دریافت کیا کہ عثمان آپ کیا پسند کرتے ہیں حضرت عثمان نے جواب دیا حضور تین چیزیں پسند کرتا ہوں اول لوگوں کو کھانا کھلاؤں دوسرا سلام کو پھیلاؤں اور تیسرا رات میں ایسے وقت نماز پڑھوں جب لوگ نیند کی آغوش میں ہوں اس کے بعد حضورﷺ نے حضرت علی ؓ سے دریافت کیا کہ علی ؓ آپ کیا پسند کرتے ہیں حضرت علی ؓ نے جواب دیا کہ حضورتین چیزیں پسند کرتا ہوں اول مہمان نوازی کروں دوسرا گرما کے موسم میں روزے رکھوں اور تیسرا دشمن پر تل وار سے وار کروں پھر آپﷺ نے حضرت ابو ذر غفاری سے دریافت فرمایا ابوذر آپ کیا پسند کرتے ہو حضرت ابو ذر غفاری نے جواب دیا حضور میں دنیا میں تین چیزیں پسند کرتا ہوں

اول بھوک دوسرا بیماری اور تیسرا م وت آپﷺ نے ان سے سبب پوچھتے ہوئے کہا آپ ان چیزوں کو کیوں پسند کرتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ حضور بھوک اسلیے عزیز ہے کہ اس کے ذریعہ میرا دل نرم ہوتا ہے اور بیماری اس لیے محبوب ہے کہ اس کے ذریعے میرے گ ن ا ہ معاف ہوجاتے ہیں اور موت اس وجہ سے عزیز ہے کہ اس کے ذریعے میں اپنے پروردگار سے ملوں گا۔ اس کے بعد آپﷺ نے ارشاد فرمایا میرے لیے تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند کروائی گئی ۔ اول خوشبو، دوسری نیک عورتیں ، اور تیسرے میرے آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے ۔ اسی اثناء حضرت جبرائیل تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند ہیں اول پیغام کو پہنچانا ، دوسرا امانت کو ادا کرنا اور تیسرامساکین سے محبت کرنا پھر حضرت جبرائیل آسمانوں کی جانب لوٹتے ہیں اور دوبارہ زمین پر واپس آتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ حضور اللہ رب العزت آپ کو سلام کہتے ہیں

اور ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت کو تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند ہیں اول ایسی زبان جو اللہ کی یاد سے تر ہو ، دوسرا ایسا دل جو اللہ سے ڈرنے والا ہو اور تیسرا ایسا جسم جو مصائب اور آزمائشوں میں صبر کرنے والا ہو۔


Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps

 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:33 pm

زینب کی شادی کو آج سترہ سال پورے ہونے کو آئے تھے. مگر اکثر وہ یہ بات دہرایا - اسلامک گائیڈ آف لائف

 زینب کی شادی کو آج سترہ سال پورے ہونے کو آئے تھے. مگر اکثر وہ یہ بات دہرایا کرتی اللہ کسی کو” باہر والی ‘ کا دکھ نہ دکھائے.اس کی بیٹیاں اکثر اس سے پوچھتی؛ اماں! یہ باہر والی کون ہوتی ہے ؟آج اس کی بیٹیاں اس کو زبردستی بٹها کر پوچھنے لگیں زینب ہنس کر بولی بیٹا! باہر والی تمہاری ماں جیسی ہوتی ہے. بچیاں حیرانی سے بولیں :”

اماں ! زینب ہنس کر بولی :”بیٹا! تمہارے ابا کا رشتہ جب میرے ماں باپ نے قبول کیا تو وہ اسی بات کے داعی تھے کہ زات پات، برادریاں، قبیلوں کی تقسیم صرف انسانوں کی پہچان کے لیے ہے ان کی تقسیم کے لئے نہیں ”مگر شادی کہ بعد مجھے میرے سسرال نے بتایا کہ میرا تعلق ان کی برادری سے نہیں .اس لئے میں “باہر والی ” ہوں. کتنے مزے کی بات ہے کہ آج سترہ سال بعد بھی میں باہر والی ہوں.کمرے میں خاموشی چھا گئی “باہر والی ” کے غم میںجب کوئی شوہر یا بیوی دوسرے فریق سے طلاق کا مطالبہ کر دے تو اس فریق کو اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بھی شخص طلاق کا فیصلہ یک لخت نہیں کرتا، دوسرے فریق کی کچھ مخصوص عادات کا ایک تسلسل ہوتا ہے جو اسے اس فیصلے پر مجبور کرتا ہے۔ ہر میاں بیوی کو اپنی ان عادات پر گاہے غور کرتے رہنا چاہیے تاکہ دوسرا فریق اس تلخ فیصلے پر مجبور نہ ہونے پائے۔ ازدواجی تعلقات کے ماہرین نے میاں بیوی کی یہ مخصوص عادات اپنی نئی

تحقیقاتی رپورٹ میں بیان کی ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین انڈیا کنگ اور ایرنی کروگ نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ شوہر یا بیوی کی بعض مخصوص عادات ہوتی ہیں جس سے مخالف فریق اس قدر تنگ آ جاتا ہے کہ وہ علیحدگی کا فیصلہ کر لیتا ہے، لیکن ان بری عادات کے مالک فریق کو ان کا احساس اسی وقت ہو پاتا ہے جب برا دن آ چکا ہوتا ہے۔“ ”ان مخصوص بری عادتوں میں ”کسی ایک فریق کا بے جادوسرے فریق سے شکایات کرتے رہنا اورمسلسل اس پر تنقید کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہنا، اپنے شریک حیات پر دوسروں کو ترجیح دینا دوسرے کے سامنے شریک حیات کی برائی کرنا، شریک حیات پر غلبہ پانے اور اسے اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کرنا، ازدواجی زندگی کی وجہ سے اپنے مشاغل ترک کر دینا، شریک حیات کی حدود اور شخصی آزادی کا احترام نہ کرنا شریک حیات سے کبھی اظہار تشکر نہ کرنا، ہر وقت کڑھتے اورمنہ بسورے رہنا“ شامل ہیں۔ یہ 9بری عادتیں ایسی ہیں

کہ جس مرد یا عورت میں ہوں اس کا شریک حیات لامحالہ اس سے علیحدگی پر غور کرنے لگتا ہے اور بالآخر اس پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ازدواجی تعلق خوشگوار اور طویل ہو تو غور کیجیے کہ کہیں آپ میں یہ عادات تو موجود نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو انہیں دور کرنے کی کوشش کیجیے۔“

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:32 pm

ایک لڑکی اپنی ماں کے ساتھ موبائل فروخت کرنے گئی۔ لڑکی کی ویڈیو نظر آگئی - اسلامک گائیڈ آف لائف

ہمارے ایک کولیگ بتا رہے تھے کہ میرے ایک دوست کی نئے اور پرانے موبائل کی خرید وفروخت کی دکان ہے۔ ایک دن اس دوست کے پاس اس کی دکان میں بیٹھا تھا کہ ایک ماڈرن سی خوش شکل لڑکی اپنی ماں کے ساتھ موبائل لینے آئی۔ ایک پرائس رینج بتا کر پوچھا کہ اس میں اچھا موبائل کونسا ہے جس کا کیمرہ ، میموری اور سپیڈ اچھی ہو۔میرے دوست نے پوچھا کہ پہلے آپ کونسا موبائل استعمال کر رہی تھیں

اور تبدیل کرنے کی وجہ کیا ہے مزید یہ کہ آپ کا استعمال کیا ہے تاکہ اس لحاظ سے آپ کو بہتر موبائل بتا سکوں۔اس نے پرانا موبائل دکھایا ہوئے کہا کہ پہلے سیمسنگ کا یہ موبائل ہےاور ہیلڈ ہو جاتا ہے اس لیے کوئی نیا لینا ہے۔ مزید کہا کہ آن لائن پیپرہو رہے یونیورسٹی کہ تو اچھی سپیڈ والا چاہیے۔میرے دوست نے سیمسنگ اور چائنیز کمپنی کے دو تین موبائل دکھائے جس میں اسے سیمسنگ کا ہی ایک موبائل پسند آگیا۔ پیسے دینے لگی تو دوست نے پوچھا کہ پرانا بیچنا ہے۔اس نے کہا کہ نہیں ابھی تو نہیں بیچنا۔میرے دوست نے کہا کہ اگر بیچنا ہے تو میں اٹھارہ ہزار دیتا ہوں اس کا۔اٹھارہ ہزار کا سن کر وہ لڑکی، اس کی ماں اور میں بھی حیران ہو گیا کیونکہ وہ موبائل دس ہزار کا بھی نہیں تھا۔سب کو حیران ہوتے دیکھ کر دوست کہنے لگا کہ میں نے آٹھ کہنا تھا لیکن غلطی سے اٹھارہ کہہ دیا ہے۔ لیکن میں اپنی زبان پر قائم ہوں۔ ابھی بیچنا ہے تو اٹھارہ مائنس کر کے باقی پیسے دے دیں۔

لڑکی کی اماں فوراً سے راضی ہو کر کہنے لگی کہ دے دو کیونکہ اتنے تو کسی نے نہیں دینے۔وہ لڑکی کہنے لگی، نہیں اس میں میرا سارا ڈیٹا ہے۔ ابھی پہلے نیو موبائل میں کرونگی پھر بیچوں گی۔میرے دوست نے کہا کہ ابھی دو منٹ لگنے ، دونوں سیمسنگ کے ہیں،ابھی بیک اپ کر کے اس نئے میں کر دیتا ہوں۔ اس کے بعد آپ اس پرانے کو ری سیٹ فیکٹری سیٹنگ کر دینا تو سب کچھ اڑ جائے گا۔ ابھی اٹھارہ دے رہا ہوں۔بعد میں آٹھ ہی دونگا۔تھوڑے سے پس و پیش کے بعد ماں کی طرف سے اصرار کی وجہ سے لڑکی مان گئی۔دوست نے اسی وقت بیک اپ کر کے نئے موبائل میں کر دیا ۔ ان کے جانے کے بعد میں نے دوست سے پوچھا کہ یہ کیا کیا تو نے اتنا مہنگا لے لیا۔ اتنا گھاٹے کا سودا کیوں کیا تو نےوہ شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا، تو ابھی بچہ ہے۔ تجھے کچھ بھی نہیں پتہ۔ اس میں اتنے پیسے ملتے ہیں کہ سوچ ہے تیری۔ تو چائے پی ابھی ایک جھلک دکھاتا ہوں۔

تب تک دوست اس موبائل کو ڈیٹا ریکوری پر لگا چکا تھا۔کہنے لگا کہ ہم تو دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں۔ پھر اچھے کیمرے اور اچھی سپیڈ والے موبائل کی ڈیمانڈ، پرانا موبائل بیچنے پر اس کا اتنا ہچکچانا۔ ان ساری چیزوں کی وجہ سے میں نے ایک جوا کھیلا ہے۔ لگ گیا تو لاکھوں آئیں گے، نہ لگا تو پانچ دس ہزار کا نقصان بس۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تو چائے پینے لگا۔ اس سے گپ شپ کے دوران وہ مسلسل اس کے ڈیٹا ریکوری میں لگا رہا۔ جب میں نے جانے کے لیے اجازت چاہی تو کہتا چلے جانا بس دیکھتے جاؤ کہ میں نے اتنے پیسے کس لیے بھرے ہیں۔ پھر اس نے اس لڑکی کی ایسی ایسی ویڈیوز اور تصاویر دکھائیں کہ میں حیران ہو گیا۔ اسے کہا کہ یار اس کی عزت نہ اچھالو۔ وہ کہتا جس نے اپنی عزت کا خود خیال نہ کیا ہو اس کی عزت کا پاس میں کیوں کروں۔ایک اور دوست سے بات ہوئی جو استعمال شدہ موبائل فون کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہے۔

میں نے پوچھا کہ اس کام میں اتنی بچت کیسے ہے جبکہ ایک دن میں دو چار موبائل سے زیادہ کی تو خریدوفروخت نہیں ہو پاتی ہے۔ تھوڑی بہت رد وکد کے بعد اس نے بتایا کہ جب بھی کوئی موبائل ہمارے پاس بکنےیا ٹھیک ہونے کے لیے آتا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ موبائل کس کے زیر استعمال رہا ہے۔ اس پر خاص نظر یہ رکھی جاتی ہے کہ اگر موبائل کالج یا یونیورسٹی کے کسی شاطر اور ہینڈسم لڑکے یا خوبصورت لڑکی کے زیر استعمال رہا ہو تو کسی بھی صورت میں اسے خرید لیا جاتا ہےیا ٹھیک ہونے کے لیے آیا ہو تو کل کا وقت دیا جاتا ہے۔ پھر ایسے موبائل کو سب سے پہلے ڈیٹا ریکوری پر لگایا جاتا ہے۔ اب کوئی بھی موبائل ایسا نہیں ہوتا جس میں قابل اعتراض تصاویر نہ ہوں۔ دوسری تصاویر کے تقابل سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز اس کی اپنی ہیں یا انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں۔ اپنی ہوں تو ویڈیوز اور تصاویر کی تعداد،

کوالٹی وغیرہ کے لحاظ سے بیچا جاتا ہے۔ جہاں سے یہ مختلف بالغ ویب سائٹس کو فروخت ہوتی ہیں۔مزید اس نے بتایا کہ جب بھی آپ موبائل ٹھیک کروانے جائیں تو چاہے چھوٹا سا بھی مسئلہ ہو یہی کہا جاتا کہ کل ٹھیک ہو گا۔ وجہ یہ ہوتی کہ جب کوئی موبائل بیچنے آتا تو اکثر سب کو اڑا کر اورری سیٹ کر کے لاتا ہےجس کی وجہ سے ڈیٹا ریکوری تھوڑی مشکل ہوتی مگر جو ٹھیک کروانے لائے تو اس کا تو فوراً سے سب کچھ سامنے آجاتا ہے۔ پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موبائل کس کے زیر استعمال ہے۔ وہاں سے یہ اکثر ہاتھ لگتا ہے۔اس دوست کے بقول شاید ہی کوئی موبائل والا ہو جو یہ نہ کرتا ہو ورنہ سب نے ہی مہنگے مہنگے ڈیٹا ریکوری سافٹ وئیر خرید رکھے ہوتے ہیں۔اس سب کا حل کیا ہے۔پہلی بات تو یہ کہ جب بھی کوئی موبائل لیں تو اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں اور پھر اسے لمبے عرصے تک استعمال کریں

اور کبھی نہ بیچیں۔ بیچنا ناگزیر ہو تو پھر کم سے کم چار پانچ مرتبہ اس کو مختلف غیرضروری فائلز سے بھریں اور ری سیٹ کرکے سب کچھ اڑائیں۔ پانچ دفعہ ایسے کرنے سے بہت کم ایسا چانس ہوگا کہ کچھ ملے اور اگر کچھ ریکور ہو بھی گیا تو دوسری فائلز اتنی زیادہ ہونگی کہ ان میں سے اصل کو ڈھونڈنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو گا۔کبھی موبائل ٹھیک کروانا پڑے تو پاس کھڑے ہو کر کروائیں اور جو کہے کہ کل لے جانا اسے ہرگز نہ دیں۔ کہے کہ کوئی پرزہ منگوانا پڑے گاتو اسے کچھ ایڈوانس رقم دے کر کہیں کہ منگوا لے میں کل آ جاؤں گا۔لیکن اس سے بھی زیادہ اچھا یہ ہے کہ ایسا کچھ بنائیں ہی نہ اور موبائل کو پاک صاف رکھیں اگرچہ یہ آج کل کے دور میں بہت ہی مشکل ہے کہ کوئی اس پر عمل پیرا ہو۔اور آخری اور سب سے اہم گزارش نوجوانوں کے والدین سے ہے۔ آپ کی اولاد چودہ پندرہ سال کی عمر میں ہی جوان ہوجاتی ہے۔

اور جوان ہوتے ہی جنسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میرا بیٹا یا میری بیٹی تو بہت شریف ہے تو یہ غلط استدلال ہے۔ کیونکہ جب ایک ضرورت ہے تو اسے جائز طریقے سے پورا کرنے کا انتظام نہیں کریں گے تو وہ غلط طریقے سے ہی پورا ہو گا۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا تعلق بہت عام ہے اب اور اس تعلق میں موبائل کے ذریعے وڈیوز اور تصاویر کا تبادلہ بھی کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے۔اپنے بچوں کی بالغ ہوتے ہی شادی کر دیں اور وہاں جہاں وہ چاہیں۔ ذات برادری کے بکھیڑوں سے اب نکل آئیں۔ ورنہ آپ کی یہ فضول ضد آپ کی اولاد کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر دیتی ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے رخصتی ممکن نہیں ہے تو پھر بھی نکاح لازمی کر دیں اور وہ بھی خود ان کی پسند سے۔

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:31 pm

بیوی ناراض ہوجائے تو شوہر صرف تین مرتبہ یہ عمل کرے - اسلامک گائیڈ آف لائف

میاں بیوی میں ناراضگی ایک معمول کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ مستقل پریشانی اور حسرتناک انجام کا پیش خیمہ بنی بن جاتا ہے۔۔ایسے شوہر جن کی بیویاں ناراض ہوں یا ایسی بیویاں جن کے شوہر ان سے خفا ہوں اور بات بڑھتی جارہی ہو ،ان دونوں کو اس وظیفہ پر عمل کرنا چاہئے ۔یہ مجرب وظیفہ دعا کا وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔

جو فرد ناراض ہو اسکو راضی کرنے کے لئے۔جاری ہے ۔اوّل و آخر کے بعد یہ عمل تین سو تیرہ بارپڑھ کرتین روز تک اس وقت جب شریک حیات سوجائے اسکی جانب پھونک دیا کرے ۔میاں بیوی میں ناراضگی ایک معمول کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ مستقل پریشانی اور حسرتناک انجام کا پیش خیمہ بنی بن جاتا ہے۔۔ایسے شوہر جن کی بیویاں ناراض ہوں یا ایسی بیویاں جن کے شوہر ان سے خفا ہوں اور بات بڑھتی جارہی ہو ،ان دونوں کو اس وظیفہ پر عمل کرنا چاہئے ۔یہ مجرب وظیفہ دعا کا وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔جو فرد ناراض ہو اسکو راضی کرنے کے لئے۔جاری ہے ۔اوّل و آخر کے بعد یہ عمل تین سو تیرہ بارپڑھ کرتین روز تک اس وقت جب شریک حیات سوجائے اسکی جانب پھونک دیا کرے ۔

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:30 pm

مہینے میں دو مرتبہ ہی ملنے گھر جاتا تھا،جانیے ایک شوہر کی درد بھری کہانی - اسلامک گائیڈ آف لائف

ما ما کا فون آیا، بو لی بیٹا۔۔۔ نغمہ کی طبیعت خراب ہے اسے ہاسپٹل لے کے جا رہی ہوں۔ فکر کرنے کی ضرورت نہیں میں اس کے پاس ہوں اس ی امی بھی سیدھ ھی ہاسپٹل آرہی ہیں میں کچھ کہنا چا ہتا تھا لیکن ما ما شا ید جلدی میں تھیں میرا جواب سنے بغیر ہی فون بند کر دیا میری شادیمیری پسند سے میری اپنی فیملی کے دو ر پار کے رشتہ داروں میں ہوئی تھی نغمہ کو میں نے اپنےکزن کی شادی میں دیکھا

۔ ان دنوں میں اپنی تعلیم ختم کر کے جاب کی تلاش میں تھا اور ما ما میرے لیے لڑ کی کی ۔۔ میں اپنے ما ما با با کا اکلو تا بیٹا تھا میں ایک بہت مہنگے ادارے کا پڑ ھا ہوا تھا اور مسلسل بہترین۔ کا میا بیاں حاصل کرتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا ما ما کے خیالات میرے بارے میں بہت اونچے تھے بہت ہائی فائی گھر انے کی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑ کی جو کہ بہت خوبصورت بھی ہو لیکن میں نے اپنی ما ما کے سارے خوابوں کو توڑ کے رکھ دیا جب میں نے نغمہ کا نام ما ما کے سامنے لیا ما ما نے کوشش کی کہ مجھے باز رکھ سکیں لیکن میں بھی ضد کا پکا تھا آخر کار ما ما کو جا کے نغمہ کا ہاتھ ما نگنا پڑا اور بہت جلد نغمہ میرے گھر میں میری دلہن بن کے آ گئی میری ان دنوں نئی نئی جاب تھی اور میں تریننگ پہ دوسرے شہر تھا جب میں جا رہا تھا تو میراد ل نغمہ کو چھوڑ کے جانے پہ رازی نہیں تھا ادھر ما ما بار ، بار بار مجھے حوصلہ دے رہی تھیں کہ آج تھوڑی مشکل دیکھ لو گے تو آ ئندہ زندگی میں اس کا پھل بھی پاؤ گے

میں ادھر ہی تھا جب نغمہ نے مجھے ہماری پہلی خوشی کے بارے میں بتا یا لیکن ساتھ ہی ما ما کی بھی کال آ گئی اب دوڑے دوڑے نہ آ جا نا۔۔ میں اور تمہارے با با ہیں اس کے پاس ویسے بھی ابھی اسے آ رام کی ضرورت ہے پہلے بچے کی مرتبہ میرے صرف دو چکر لگے یہاں تک کہ ہا سپٹل کا وقت آ گیا ماما کی وہی بات کہ ہم ہیں اس کے پاس تم فکر مت کرو مر د بنو اپنے اندر بر د باری پیدا کرو اور پھر ما ما کا فون آیا وہ مسلسل رو رہی تھیں بیٹی آ گئی ہے تمہارے گھر۔ میری دعا ئیں ساری رائیگاں چلی گئیں مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ خوشی کا اظہار کروں یا گم کا بہر حال جب گھر پہنچا تو ماما با با کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کے میں ان کے پاس ہی بیٹھ گیا ما ما کی باتوں کا لب لباب یہ تھا کہ اس لڑ کی نے بیٹیاں ہی پیدا کر نی ہیں یہ اپنی ماں پہ گئی ہے نغمہ خود بھی چار بہنوں میں تیسرے نمبر پہ تھی میں کچھ دن رک کے واپس جاب پہ آ گیا میری تریننگ ختم ہو چکی تھی

لیکن میری پہلی پوسٹنگ دوسرے شہر میں ہی ہوئی تھی پہلی بچی کے بعد ایک سال میں میرے صرف دو چکر گھر کے لگ سکے ۔ نغمہ مجھے بہت مر جھائی ہوئی اور چپ چپ نظر آ تی تھی وہ ویسے بھی صبر والی خاموش فطرت لڑکی تھی ۔ اب پھر وہ ماں بننے جا رہی تھی لیکن میرے اندر اگر کبھی کوئی لطیف جذبہ بیدار ہوا بھی تھا تو ما ما کی باتوں سے وہ پھر سے سو چکا تھا ما ما وہی بات کہتی رہتی میرا تو ایک ہی بیٹا ،۔۔ اللہ اب کے مجھے پو تا دے دیں، لیکن یہ تو اللہ کے کام جب رات کو ما ما کی کال آ ئی۔ تو وہ بہت دکھی تھیں۔ پھر سے بیٹی آ گئی ابھی تو تمہارے کھیلنے کے دن تھے دو بیٹیوں کا بو جھ میرے معصوم بیٹے پہ آن پڑا ۔ اب میں کیا کہتا۔ خاموشی سے سنتا رہا ما ما کہ رہی تھیں۔ ابھی آ نے کی ضرورت نہیں۔ کسی پروگرام کے ساتھ آنا۔ اگلے ہفتے میں بچی کےبال کٹوانے ہیں اس وقت ہی آ نا تا کہ بار بار نہ آ ن پڑے۔ میرے اندر تو کبھی کوئی جذبہ، کوئی محبت جا گی ہی نہیں تھی

اگر کوئی جذبہ تھا بھی تو ما ما کی باتیں سن سن کے وہ سو چکا تھا۔۔۔ سو میں رک گیا آ ج میں گھر جا رہا تھا آج چھوٹی اکیس دنوں کی ہو چکی تھی جب میں گھر پہنچا تو ما ما نغمہ اور بڑی بچی کے ساتھ ہاسپٹل گئی ہوئی تھیں بڑی بیٹی صنوبر کی کھا نسی بہت بڑھ چکی تھی اس کا چیک اپ کر وانا تھا۔ چھوتی بے بی کے ساتھ ماسی گھر پہ تھیں۔ ماسی نے مجھے چھوٹی بچی کے پاس بیٹھنے کا کہااور خود میرے لیے کھانے کا انتظام کرنے چلی گئیں۔ میں تھوڑی دیر خالی ذہن بیٹھا رہا ھر کارٹ میں دیکھا تو گلابی کپڑوں میں لپٹی ہوئی گڑ یا آ نکھیں مو ندے پڑ ی ہوئی تھی۔ مجھے لگا اس کا ما تھا اور دہا نہ میرے جیسا ہے مجھے اس پہ بے اختیار پیار آ گیا۔ میں اس کو چھونے لگا تو ما ما کی باتیں ذہن میں گو نجنے لگیں، بیٹیاں بو جھ ہی تو ہو تیں ہیں۔ بیٹیاں تو ماں کی ہمدرد ہوتیں ہیں ہمارے بیٹے کا ساتھی تو اس کا بیٹا ہوگا۔ میں نے ہاتھ کھینچ لیا اور پھر سے کرسی پہ بیٹھ گیا تھوڑی دیر گزری تھی کہ گلابی بنڈل میں حرکت ہوئی

اس پہ جھکا۔ گڑ یا نے آ نکھیں کھو لی تھیں اس کی آ نکھیں بھی میرے جیسی ہی تھیں وہ خاموشی سے مجھے دیکھ رہی تھی پھر ایک جما ئی لی وہ کچھ بے چین ہوئی اور پھر نیچے والا ہونٹ باہر نکال کے رونے کی تیاری کر نے لگی بے اختیار میں نے اپنی انگلی اس کے ہاتھ میں پکڑ ائی اس نے اپنی ننھی منی پوری جان کے ستھ میری انگلی کو پکڑا اور کھینچ کے اپنے منہ میں ڈال لیا چس چس کی آ واز کے ساتھ وہ میری انگلی کو چو سنا شروع ہو گئی۔ میرے دل کی برف جو نا نغمہ کے گرم گرم آ نسو ؤں سے پگھلی نا اس کے خاموش شکوؤں سے پگھلی۔ وہ اس ننھی منہ گرفت نے پگھلا دی بے اختیار میں نے چھوٹی سی گڑ یا کو اٹھا کے سینے سے لگا لیا میری آ نکھوں میں آنسو بہ رہے تھے گر یا مجھےمعاف کر دینا ما ما صنو بر اور نغمہ گھر آ چکی تھی۔ میں نے ما ما کے سامنے نغمہ سے کہا، یار اپنی تیاری کر لو کل انشاء اللہ ہم نکل جائیں گے۔ چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ ما ما، با با کب تک تمہاری ڈیوٹیاں دیتے رہیں

گے ما ما نے کہا ابھی تو کچھ ہی دن ہوئے ہیں ڈ یلیوری کو ، لیکن میں نے جواب سو چا ہوا تھا وہی جو ما ما مجھے اکثر کہتی تھیں سارے زمانے کی عورتیں بچے پیدا کرتی ہیں اس نے کوئی نیا کام تو نہیں کیا بس مجھے صرف یہ دکھ ہے کہ صنو بر کا یہ قیمتی وقت اب دو بارہ تو نہیں آ ئےگا وہ میں نے مس کر دیا لیکن چھوٹی کے ان خوبصورت دنوں کو میں انجو ئے کر رہا ہوں اس کا نام میں نے نوید سحر رکھا ہے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ یہ کیا نام ہے یہ صرف میں ہی جانتا ہوں کہ نوید سحر ہی تو میری زندگی میں نئی صبح کی نوید لائی ہے۔۔ میں جو ممی ڈیڈی بچہ تھا۔۔۔ اسی نے تو مجھے حوصلہ دیا کہ میں سب کو بتا سکوں کہ ان کا اور انکی ماں کا کفیل میں ہوں۔ اگر میں ہی انہیں تحفظ نہیں دوں گا تو کون ان کے سر پہ ہاتھ رکھے گا کون ان کا ہاتھ پکڑے گا۔ دنیا سے لڑ نا انہیں کون سکھا ئے گا۔ شکر ہے زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ ( صبح کا بھو لا جب گھر آ ئے تو اسے بھو لا نہیں کہتے)

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:28 pm

’میری شادی اس 60 سالہ بڈھے سے کرادی گئی، سہاگ رات پر اس کی مرضی کے مطابق - اسلامک گائیڈ آف لائف

رقم کے لالچ میں امیر ہوس پرست بوڑھوں کو کم سن بیٹیاں فروخت کر دینا ہم سے پسماندہ معاشروں میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ایسی ہی ایک نوعمر لڑکی کی عمر رسیدہ وڈیرے کے ساتھ شادی کی ایک کہانی سامنے آئی ہے جس سے انسانیت شرما کر رہ گئی ہے۔یہ سٹوری ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ نے بیان کی ہے۔ یہ بدنصیب لڑکی 14سال کی تھی جب اس پر گاﺅں کے چوہدری کا دل آ گیا،

جو کنواری لڑکیاں بیاہنے کا رسیا تھا۔ لڑکی کی ماں نے اس وڈیرے کے ساتھ اپنی بیٹی کا سودا کر لیا اور اسے یقین دلایا کہ اس کی بیٹی کنواری ہے۔ بیٹی، جسے اس کے ماں باپ نے پیدائش کے بعد قبول ہی نہیں کیا تھا اور اس کے ساتھ ہمیشہ سے جانوروں جیسا سلوک کرتے آ رہے تھے، وڈیرے کے ساتھ اس سودے پر اچانک اس پر محبت نچھاور کرنے لگے۔ لڑکی اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ ”جب میری ماں نے میرا سودا کر لیا تو شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ دولہا کی طرف سے عروسی جوڑا اور دیگر تحائف آنے لگے تھے۔ شادی سے ایک رات قبل مجھے مہندی لگائی گئی۔ ان تمام دنوں میں میرے گھر کے تمام فرد، جو تمام عمر مجھ پر ظلم کرتے آئے تھے، مجھے کھانے کو انتہائی کم دیتے تھے بلکہ اکثر فاقے سے رکھتے تھے، اچانک تبدیل ہو گئے۔ میں ان کے اس سودے سے آگاہ تھی چنانچہ ان کے روئیے میں آنے والی اس تبدیلی پر دل ہی دل میں ہنسی تھی۔

میں نے بھی ان سے انتقام لینے کی ٹھان لی تھی۔شادی کا دن آ پہنچا اور میں بہت خوش تھی، شادی پر نہیں بلکہ اس بات پر کہ میرے انتقام لینے کی گھڑیاں نزدیک آ رہی تھیں۔ بارات آئی، مجھے سجا سنوار کر آنگن میں بیٹھے میرے دولہا کے ساتھ لیجا کر بٹھا دیا گیا۔ مجھے نہیں معلوم وہاں کتنا وقت گزرا، کیونکہ مجھے وقت کا کچھ احساس ہی نہیں رہا تھا۔ پھر رخصتی کا وقت آ گیا۔ میری ماں مجھے گلے لگا کر رو رہی تھی اور میں اندر ہی اندر ہنس رہی تھی۔“ لڑکی مزید لکھتی ہے کہ ”دولہا کے گھر پہنچ کر میں گاڑی سے اتری تو سامنے اس کی بہت بڑی حویلی تھی۔ مجھے ایک بہت بڑے گلاب کے پھولوں سے سجے ہوئے کمرے میں لیجا کر بیڈ پر بٹھا دیا گیا۔ کچھ وقت گزرا اور میرا دولہا اندر آ گیا۔ میں نے اسے دیکھا۔ اس کی عمر 60سال سے زیادہ تھی، اس وقت میری عمر صرف 14سال تھی۔ اس نے پی رکھی تھی۔

مجھے دیکھ کر اس نے کہا کہ’تمہاری ماں نے ٹھیک کہا تھا کہ تم بہت خوبصورت ہو، وہ مجھ سے زیادہ رقم بھی مانگتی تو میں وہ بھی دے دیتا، تم مجھے بہت سستی مل گئی ہو۔“ وہ میرے قریب آیا ، میرے سر سے دوپٹہ اتارا، میرے زیورات اتارے اور پھر میرے سارے کپڑے اُتار دئیے۔ میں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس کے بعداس نے مجھے اٹھ کر کھڑے ہونے کو کہا۔ وہ میرے ایک ایک عضو کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا۔وہ مجھے نہیں بلکہ اپنی خریدی ہوئی چیز کو دیکھ رہا تھا کہ کہیں اس کی رقم ضائع تو نہیں گئی۔ پھر اس نے ایک جھٹکے سے مجھے کھینچ کر بستر پر گرا دیا اور میرے اوپر لیٹ گیا۔ جیسے ہی اس نے میرے ساتھ ملاپ شروع کیا، اسے معلوم ہو گیا کہ وہ جو چیز چاہ رہا تھا وہ مجھ میں نہیں ہے۔ میرا پردہ بکارت پھٹنے سے نکلنے والا خون نہیں نکلا تھا۔ اس پر وہ غصے سے لال پیلا ہو گیا۔ کیوں نہ ہوتا،

اس کی ساری سرمایہ کاری ضائع ہو رہی تھی۔ اسے یہی ایک چیز تو چاہیے تھی جو اس سودے کا سننے کے بعد میں نے اپنے گھر والوں سے انتقام لینے کے لیے اپنے ہاتھوں سے ختم کر دی تھی۔میں جانتی تھی کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ یہ وڈیرا جھوٹ بولنے پر میری ماں کو سرعام رسوائی کا نشانہ بنائے گا، اسے سودے کی رقم بھی نہیں دے گا اور پھر خاندان سمیت اسے گاﺅں سے بھی نکال باہر کرے گا۔ یہی تو میں چاہتی تھی۔ مجھے اپنی کوئی پروا نہیں تھی۔ میں تو بچپن ہی سےیہ سب کچھ سہنے کی عادی تھی اور اب بھی چہرے پر ایک مسکراہٹ لیے اپنی سہاگ رات میں اپنے دولہا کے گھونسے اور لاتیں سہہ رہی تھی۔مجھے یہ سوچ کر ہی بے حد خوشی مل رہی تھی، کہ اگلی صبح مجھ پر تمام عمر ظلم کرنے اور بالآخر ایک بوڑھے کے ہاتھوں فروخت کرنے والے ماں باپ اور 4بھائیوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Friday, 27 January 2023

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:44 am

Marda ka Jab Aurat se Dil Bhar Jata Hai Short Story



Voice By: Hafiz Suleman Hanif Mughal

Join us in this heartwarming short story about a man, Marda, who falls deeply in love with a woman. Watch as their love blossoms and see how Marda's heart overflows with emotion. This is a must-see for anyone who believes in the power of love. Don't miss out on this captivating tale of two people brought together by fate.

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps

 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:42 am

What is the Difference Between Enterprise & Entrepreneurship?




 Speaker By: Adnan Hanif Mughal

What is the Difference Between Enterprise & Entrepreneurship? Are you curious about the differences between enterprise and entrepreneurship? Look no further! In this informative video, we delve into the key distinctions between these two concepts and explore how they impact businesses. From the mindset and goals of entrepreneurs to the structure and operations of enterprises, this video will provide a comprehensive understanding of the key differences between the two. Whether you're a business student, an entrepreneur, or a small business owner, this video is a must-watch for anyone looking to gain a deeper understanding of the business world. #enterpreneurmindset #enterpreneur #enterpreneurs #enterpreneurship Facebook: https://www.facebook.com/islamicguide... Instagram: https://www.instagram.com/adnanhanifm... Twitter: https://twitter.com/Adnanhanifm If you have any questions or need guidance about anything, just comment below in the comment section. Love you all. Thanks for watching.

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps
Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:39 am

شادی کی پہلی رات بیوی نے شوہر کو قسم دے کر کہا کہ میری اس چیز کو ہاتھ نہیں لگاؤ - اسلامک گائیڈ آف لائف

سردی کا موسم تھا ہر طرف دھند نظر آرہی تھی تہجد کے وقت مولوی صاحب منزل کی طرف رواں دواں تھے بسم اللہ پڑھ کر انہوں نے مسجد کا دروازہ کھو لا جیسے ہی وہ مسجد میں داخل ہوئے انہیں مسجد کے بر آمدے میں چادر اوڑھے کوئی شخص لیٹا ہوا دکھائی دیا پہلے تو حیران ہوئے کہ اس وقت کون ہو سکتا ہے پھر وہ آگے

بڑھے انہوں نے اس وجود کو ہلا کر کہا اٹھو بھائی جان یہ مسجد ہے سونے کی جگہ نہیں مگر وہ وجود پہلی ہلانے پر ٹس سے مس نہ ہوا مولوی صاحب نے دوبارہ اسے ہلا یا اور کہا اٹھو بھائی یہاں کیوں سو رہے ہو ان کی اتنی بات کرنے کی دیر تھی۔کہ اس نے اپنے اوپر سے چادر اٹھائی مولوی صاحب کی حیرانی سے ماتھے پر بل پڑے انہوں نے دیکھا کہ پندرہ سولہ سال کی لڑکی صحن میں بیٹھی تھیں بال بکھرے ہوئے تھے منہ پر ایسے نہیں جانتے تھے جیسے کسی نے مارا ہو اس کی آستین پھٹی ہوئی تھی اور آستین سے یوں خ و ن بہہ رہا تھا جیسے گہرا لگاؤ مولوی صاحب نے حیرت سے پوچھا تم کون ہو بیٹی یہاں کیوں بیٹی ہوں وہ لڑکی ڈر گئی کچھ نہ بولی مگر پھر مو لوی صاحب کے دوبارہ پوچھنے پر بتانے لگی مرا نام ماریہ ہے اور میں ہارون آباد کے گاؤں سے آئی ہوں مولوی صاحب نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے بیٹی لیکن تم یہاں کیوں بیٹھی ہو صاحب ہمارے گاؤں میں میرے بھائی سے گ ن ا ہ سر زد ہوا ہے جس کے بدلے میں

پنچا یت نے مجھے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔میں تو اس چیز کے لیے تیار نہیں تھی گھر والوں نے مجھے بہت مارا میں نہ مانی بس وہاں سے بھاگ آ ئے اور مسجد میں بنا لے لیں یہ تو اللہ کا گھر ہے یہاں سے تو کوئی نہیں نکال سکتا مولوی صاحب لڑکی کی باتیں سن کر سوچ میں پڑ گئے سوچنے لگی کہ اس طرح اس لڑکی کو یہاں نہیں رکھا جا سکتا انہوں نے اسے کہا بیٹی تو خود کو چادر میں لپیٹ لو میرے ساتھ چلو لڑکی نے ایسا ہی کیا لڑکی کے پاس ایک چھوٹی سی گھٹڑی تھی اس نے ساتھ اٹھا لی اور مولوی صاحب کے پیچھے چل دی مولوی صاحب اسے اپنے گھر لے گئے گھر میں ان کی بیوی کا بیٹا تھا مولوی صاحب کی بیوی پہلے تو لڑکی کو دیکھ کر پریشان ہو گئیں مگر جب انہوں نے ساری بات بتائی اور کہا اب یہ ہمارے ساتھ رہےگی اور تم اس کا بیٹیوں کی طرح خیال رکھوں گی ان کی بیوی بھی نہا یت نیک دل عور تھی اس نے اپنے شوہر کی ہا میں ہاں ملائی مولوی کا بیٹا بھی وہیں موجود تھا اس نے جب ان کو دیکھا اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اس نے اتنی معصومیت آج تک کسی چہرے پر نہیں دیکھی تھی وہ ڈری ڈری لڑکی اسے آسمان سے اتری پڑی لگی مولوی

صاحب کی بیوی اسے گھر کے خالی کمرے میں لے گئی اور اسے کہا اپنا سامان مجھے دے دو گھر میں رکھا تو ضرور ہے مگر کل کو کوی اونچ نیچ ہو گی ت وہم کیا کر یں گے اس سے بہتر سے اس کا نکاح علی سے کروا دیں تا کہ بعد میں کوئی مسئلہ نہ ہو مولوی صاحب کو بیوی کی بات ٹھیک لگی کیونکہ وہ بچی انہیں بھی معصوم اور پیاری لگی تھی مگر پھر بھی زمانے کی ہوا لگتے دیر نہیں لگتی۔

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps


 

Posted by Put Your Life On Islamic Way On 11:38 am

”اس شخص نے اس لڑکی کو گھر کے اندر بلایا اور دروازہ بند کر لیا“ - اسلامک گائیڈ آف لائف

بغداد میں ایک بہت ہی گنہگار انسان تھا لیکن اسکی ماں بہت صالحہ تھی۔ اس شخص سے جب بھی کبھی گناہ ہوتا تو وہ اس گناہ کو ایک کتاب میں لکھ لیتا تھا۔ ایک رات کا ذکر ہے جب وہ اپنے دن کے تمام گناہ کتاب میں لکھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ نکل کر باہر دیکھا تو نہایت ایک خوبصورت حسین و جمیل ماہ جبین لڑکی کھڑی تھی اس نے اس لڑکی سے پوچھا ” کیا چاہیے

” اس لڑکی نے جواب دیا۔” میرے پاس یتیم بچے ہیں تین دن سے بھوکے ہیں کچھ بھی کھانے کو میسر نہیں”” اچھا اندر چلی آو ” اس شخص نے اس لڑکی کو گھر کے اندر بلایا اور دروازہ بند کردیا کیونکہ اس عورت کو دیکھ کر اس شخص کی نیت خراب ہوگئی۔ وہ عورت جان گئی کہ اس بندے کی نیت خراب ہوگئی ہے کہ اس کے جی میں اب برائی آئی ہے اس شخص نے اس عورت کو زبردستی اپنی طرف کھینچا تو اس نے زور سے کہا۔ ” اے مصیبتوں کو دور کرنے والے! مجھے اس انسان سے بچا اور اے اپنی مرنے کو بھول جانے والے انسان ! مجھے تو تم موت سے غافل نظر آتا ہے کہ تم نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا کہ تم سے بہتر اور طاقتور لوگوں کو موت کھا گئی ان کو بھی اس دنیا سے سواۓ تھوڑی سی روزی اور کپڑے کے کچھ بھی نہ نصیب ہوا اور جو منزلیں اور بڑے بڑے گھر انہوں نے آباد کیے وہ بھی خالی رہ گیےاور تم خود بھی کل یا اگلے روز تن تنہا قبرستان میں جاگزین

ہوکر ان کی ہمسائیگی میں چلا جائے گا اے میرے پرودگار میری فریاد کو سن اور اس انسان سے مجھے بچا” اس شخص نے جب یہ فریاد سنی تو بہت رویا اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اس شخص نے اس عورت کو کھانے کی چیزیں دی اور کہا ” یہ اپنے بچوں کو کھلاو۔ میں بہت گنہگار انسان ہوں اپنے بچوں سے کہنا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کریں کہ میرے گناہ معاف کردیں اور جو گناہ میں اپنی کتاب میں لکھتا رہا وہ گناہ معاف ہونے کے بعد مٹ جائیں” ۔اس عورت نے جاتے ہوۓ اس شخص کو بہت دعائیں دی جب وہ عورت چلی گئی تو بندے نے اپنی کتاب میں لکھا کہ میں نے ایک عورت سے آج زنا کرنا چاہا کتاب کھولنے بیٹھ گیا جیسے ہی اس نے پہلا صفحہ کھولا تواس پر کچھ لکھا ہی نہیں تھا تمام کتاب چھان ماری لکن گناہوں کا تمام ریکارڈ کتاب سے پاک ہوچکا تھا، اس شخص نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ماں کے پاس چلا گیا ماں کو کہا کہ اسکے گناہ معاف ہوگئے ہیں کیونکہ میں نے اللہ پاک سے ایک عورت کے ہاتھ پر

صلح کرلی۔اس کے بعد اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی اور دعا کی ” اے رحمان ! جیسے آپ نے میرے گناہ مٹا دیے اب مجھے اپنے پاس بلا لیں” یہ کہہ کر سجدہ کیا ، ماں نے جب دیکھا کہ سجدہ طویل ہوگیا تو اسکو حرکت دی دیکھاکہ روح پرواز کرچکی ہے اور اسکا انتقال ہوچکا ہے

Please Like, Subscribe, and Follow Me!

Youtube:     Islamic Guide of Life 
                    Al-Sirat Voice
                    Islamic Apps